دہلی، 7 اکتوبر (پریس ریلیز): مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو چاہئے کہ ایران جیسی گندی سیاست کا سامنا کرنے کیلئے مسلمان متحد ہو جائے۔ اور عراق، شام، یمن، لبنان اور فلسطین کے علاوہ دیگر خطوں میں رونما ہونے والے انسانی المیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے دنیا بھر کے عام مسلمانوں کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنے کی اپیل کی ۔ مولانا راجانی نے کہا کہ ایرانی انقلاب کی جڑ ہی بیسیوں لاکھ مسلمانوں کے قتل عام سے رونما ہوئی تھیں۔ تب سے لے کر اب تک ایران نے ہتھیار ہی بنانے کا کام کر کے انہیں کام پر لگانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنے حامیوں کو پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیا پوری دنیا اس بات سے واقف نہیں ہے کہ کس طرح ایران کی مداخلت نے نہ صرف بیرونی تنازعات کو ہوا دی ہے بلکہ فرقہ وارانہ جھگڑوں کو بھی ہوا دی ہے- شیعہ اور سنی برادریوں کے درمیان اور خود شیعہ شیعہ برادری کے اندر - جس سے سریا عراق لبنان یمن کی تباہی ہوئی ہے۔ مولانا راجانی نے تبصرہ کیا کہ جہاں دنیا بھر کے مسلمان اکثر ایران کو مسلم حقوق کا چیمپئن سمجھتے ہیں، حقیقت میں ایران مسلمانوں کے تنازعات کی آگ کے میں تیل ڈال کر کے شعلوں کو بھڑکانے کا کام کرتا ہے۔ مولانا راجانی نے کہا کہ میں ایک شیعہ عالم کی حیثیت سے بات کرتے ہوئے، آپ کو متوجہ کر کے ماضی کی طرف لے جاتا ہوں کہ جس طرح ہمارے ایران حمایتی شیعہ بھائیوں نے امام حسین کے قتل کا الزام سنی بھائیوں پر لگایا اور اس کو ثابت بھی کیا، بالکل اسی طرح اب چودہ صدیوں بعد بھی ایران مسلمانوں کا قتل عام کروا رہا ہے اور جس کی ذمہ داری بھی ایران مسلمانوں کے سر پر تھوپتا ہے، حالاناکہ اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو یزید کے خلاف کھڑے ہونے والے سب ایران حمایتی شیعہ تھے اور پھر جب موقع آیا تو سارے ایران حمایتی شیعہ یزید کے ساتھ مل جاتے ہیں، جس سے امام حسین علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی ہے اور یہی رویہ دیکھ کر امام حسین کے بعد آٹھ اماموں کا دو ر آیا جس میں سے کسی امام نے تلوار نہیں اٹھائی اور آج بھی ہمارے شیعہ بھائیوں کا عقیدہ ہیکہ جب اس دنیا میں تین سو تیرہ پیدسا ہو جائینگے تو امام ظہور فرمائینگے اور ان تین سو تیرہ شیعہ جو امام حسین کی شہادت سے لے کر اب تک اس دنیا میں آنے کے بعد مر گئے ہیں انہیں زندہ کرینگے اور پھرچوتھے آسمان سے حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا اور خانہ کعبہ کی دیوار پر پشت لگا کر آواز دینگے لو اب ہم آ گِئے ہیں ہم سے مقابلہ کرو جس میں سب سے زیادہ ایرانی شیعہ حضرات کو امام کاٹینگے جس سے خود شیعہ ہی امام مہدی کے دشمن بن جائینگے اور چالیس سال بعد ایک عورت امام مہدی کو زہر دیگی جس سے امام مہدی کی شہادت ہوگی اور اسی لئے ہماری شیعہ فقہ کے اصول دین پانچ ہیں پہلے توحید دوسرے عدل تیسرے نبوت چوتھے امامت اور پانچویں قیامت، لہذا میں وصیت کرتا ہوں کہ میں مر جاوں تو مجھے شیعہ قبرستان میں دفن نہ کیا جائے اس لئے آج دنیا کے ہر شیعہ قبرستان میں امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا حامی ایران اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے قاتلوں کا ذمہ دار ایران حمایتی شیعہ مدفون ہے اس وجہ سے میں نہیں چاہتا کہ میں روز حشر امام حسین کے قاتلوں کے حامی اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے حامی ایران حمایتی شیعہ حضرات کے ساتھ میں اٹھایا جاوں اور یاد کھنا میں مر بھی جاوں تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا کہ ایک نہ ایک دن تمام یہ ایران حمامیتی شیعہ اسرائیل امریکہ سے مل کر دنیا کی تمام ریاستوں کی حالت بھی فسطین کی طرح کر دینگے جو آج یہی مکار ایران حمایتی منافق شیعہ جو سنی مسلمانوں کی حمایت میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں۔اور امام حسین کی شہادت کے بعد مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں