نئی دہلی، 27 اکتوبر : ممتاز شیعہ عالمِ دین و رہنما مولانا حسن علی راجانی نے ایران کی موجودہ صورتِ حال میں شیعہ مذہبی اداروں اور حوزۂ علمیہ کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوزۂ علمیہ محض مذہبی تعلیم کا مرکز نہیں، بلکہ فقہ، اجتہاد، دینی تحقیق، اخلاقی تربیت اور معاشرتی رہنمائی کا ایک اہم ادارہ بھی ہے۔ ایران میں بالخصوص قم کا حوزہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ ریاستی پالیسی اور مذہبی قیادت سے متعلق مباحث میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔مولانا راجانی کے مطابق، مذہبی اداروں کی اصل قوت ان کے علمی وقار، دیانت، شفافیت اور عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مذہبی تعلیم، علمی تحقیق اور عوامی خدمت کو سیاسی اختلافات اور ریاستی مفادات سے الگ رکھتے ہوئے ان کی علمی آزادی کا احترام کیا جائے۔7 مئی 2025 کو Iran International میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، قم کے حوزۂ علمیہ میں متعدد تعلیمی ادارے ہیں، جہاں ایران کے علاوہ مختلف ممالک کے طلبہ بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں خواتین کے دینی تعلیمی اداروں، طلبہ کے وظائف اور ریاستی مالی معاونت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ معلومات اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ مذہبی تعلیم کے نظام میں مالی وسائل اور انتظامی ڈھانچے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔29 ستمبر 2026 کو Tehran Bureau نے رپورٹ کیا کہ ایران کے بعض حوزہ طلبہ کو مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے اضافی ماہانہ وظیفہ ملنا شروع ہوا ہے۔ رپورٹ میں ایک گمنام مذہبی ذریعے کے حوالے سے ادائیگی کی تفصیل دی گئی، تاہم اس رقم کے اصل مالی ماخذ اور اس اقدام کے مقاصد کی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ لہٰذا اس رپورٹ کو ایک صحافتی دعوے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی ثابت شدہ سیاسی منصوبے کے طور پر۔10 جون 2026 کو Iran International نے ایک ایرانی مذہبی شخصیت، عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، کے خلاف خصوصی عدالتِ علما کی کارروائی اور سزا سے متعلق خبر شائع کی۔ یہ معاملہ مذہبی اختلافِ رائے، علمی آزادی اور مذہبی اداروں میں احتساب کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتا ہے؛ تاہم عدالتی دستاویزات کی آزادانہ جانچ کے بغیر اس مقدمے کے تمام قانونی پہلوؤں پر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔مولانا راجانی نے کہا کہ شیعہ مذہبی قیادت کو چاہیے کہ وہ علمی اختلاف کو تحقیق، دلیل اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت کو مضبوط کرے۔ مذہبی اداروں کے مالی معاملات، وظائف، انتظامی فیصلوں اور ریاستی معاونت کے بارے میں مناسب شفافیت سے نہ صرف طلبہ اور علما کا اعتماد بڑھ سکتا ہے بلکہ عوام کو بھی اداروں کی کارکردگی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے تمام علما، حوزہ طلبہ یا مذہبی شخصیات کو ایک ہی سیاسی موقف سے وابستہ سمجھنا درست نہیں۔ حوزۂ علمیہ کے اندر مختلف علمی رجحانات اور ریاستی پالیسیوں کے بارے میں مختلف آرا موجود ہو سکتی ہیں۔ کسی فرد یا ادارے کے کردار پر رائے قائم کرتے وقت مستند شواہد، واضح دستاویزات اور متعلقہ فریق کا مؤقف سامنے رکھنا ضروری ہے۔مولانا حسن علی راجانی نے زور دیا کہ مذہبی اداروں کی ترجیحات میں دینی تعلیم، اخلاقی تربیت، غربت میں کمی، صحت، تعلیم، انسانی وقار اور معاشرتی امن کو نمایاں جگہ ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق، مذہب کے نام پر کام کرنے والے ہر ادارے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے علمی و اخلاقی اصولوں کے ساتھ ساتھ جواب دہی اور عوامی خدمت کے تقاضوں کو بھی پورا کرے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ صورتِ حال کا سنجیدہ جائزہ جذباتی نعروں یا غیر مصدقہ الزامات کے بجائے قابلِ اعتماد معلومات، آزادانہ تحقیق اور مختلف نقطۂ نظر کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ شیعہ مذہبی اداروں کا مستقبل بھی اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب علم، دیانت، شفافیت، علمی آزادی اور عوامی فلاح کو بنیادی اہمیت دی جائے۔آخر میں مولانا راجانی نے کہا کہ اران سے پڑھ کر دنیا بھر میں جانے والے تمام شیعہ ملاووں کی سی بی آئی کی طرز پر آزادانہ جانچ ہو ، تاکہ لبنان عراق سریا یمن اور دیگر افریقی ممالک کی طرح دیگر ممالک کے حالات خراب ہو کر خانہ جنگی میں تبدیل ہو کر خراب نہ ہو جائیں