کب تک مسجدوں کو مندروں میں بدلنے کی سازشیں کرتی رہیگی خود قانون کے محافظ شخصیتیں,، شیعہ مولانا حسن علی راجانی


Posted November 1, 2026 by rajanihasanali

بھروچ کی تاریخی جامع مسجد کی مذہبی شناخت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے، عبادت گاہوں کے تحفظ اور مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی ضمانت دی جائے — شیعہ عالمِ دین مولانا حسن علی راجانی

 
نئی دہلی، یکم نومبر : ممتاز شیعہ عالمِ دین و رہنما مولانا حسن علی راجانی نے گجرات کے تاریخی شہر بھروچ کی جامع مسجد سے متعلق جاری تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی مذہبی عبادت گاہ کی شناخت اور تاریخی حیثیت کا فیصلہ جذبات، سیاسی دباؤ یا یک طرفہ دعووں کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی فریق کو کسی مذہبی مقام کی تاریخ کے حوالے سے اعتراض ہے تو اسے مستند تاریخی دستاویزات، آثارِ قدیمہ کے شواہد اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے ثابت کیا جانا چاہیے۔مولانا راجانی نے کہا کہ صدیوں سے قائم مذہبی مقامات کے معاملات میں امن، مذہبی ہم آہنگی اور شہریوں کے آئینی حقوق کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ کسی بھی عبادت گاہ کو تنازع کا سیاسی ذریعہ بنانا معاشرتی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت، گجرات حکومت، محکمہ آثارِ قدیمہ اور عدلیہ سے اپیل کی کہ بھروچ جامع مسجد کے معاملے میں تاریخی شواہد کی غیر جانب دارانہ جانچ، مسجد انتظامیہ کا مؤقف سننے اور تمام فریقوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔مولانا حسن علی راجانی نے مزید کہا کہ ہندوستان کی خوبصورتی اس کی مذہبی گوناگونی، آئینی اقدار اور باہمی احترام میں ہے۔ ملک میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے عقیدے اور عبادت گاہوں کے تحفظ کا یکساں حق حاصل ہونا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ انصاف، امن اور قانون کی بالادستی ہی ایسے حساس مذہبی تنازعات کا پائیدار حل ہے۔
 
Contact Email [email protected]
Issued By Maulana Hasan Ali Rajani
Phone +91-8347799275
Business Address Maulana Hasan Ali Rajani Noida Sector 116 UP India
Maulana Hasan Ali Rajani Mahuva Bhavnagar Gujrat India
Country India
Categories Media , News , Politics
Tags maualana hasan ali rajani , maulana rajani , hasan ali rajani
Last Updated November 1, 2026