گذشتہ روز بغداد میں ایران کے خلاف شیعہ حضرات کے ملین مارچ میں مولانا حسن علی راجانی کی عراق کے شیعوں کی حمایت


Posted October 27, 2026 by rajanihasanali

دنیا بھر کے شیعہ مسلمان کسی ایک حکومت یا مسلح گروہ کی سیاسی ملکیت نہیں ہیں۔ عراق سمیت دنیا بھر کے شیعوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ضمیر، اپنے اصولوں کے مطابق فیصلے کریں۔ شیعہ مولانا حسن علی راجانی

 
نئی دہلی 27، اکتوبر: عراق کی راجدھانی میں ایران کے خلاف شیعہ حضرات کے ملین مارچ پر بولتے ہوئے شیعہ مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ ایرانی حکومت کو مذہب اور مسلک کے نام پر عراق یا دنیا بھر میں اپنی پراکسی پالیسیوں کی حمایت مسلط کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ اب عراق سمیت دنیا بھر کے شیعوں کو ایرانی پراکسی جنگوں کی نہیں، امن، خودمختاری، انصاف اور انسانی وقار کی ضرورت ہے۔لہذا عراق کو بیرونی مداخلت اور علاقائی جنگوں سے دور رکھا جائے — مولانا راجانی نے کہا کہ دنیا بھر کے شیعہ حضرت کا ایران کی ہر پراکسی کی حمایت کرنا لازم نہیں!اور ایران کی مذہب کے نام پر پوری دنیا کے شیعہ حضرات پر سیاسی و عسکری وفاداری مسلط کرنا ناقابلِ قبول ہے ، لھذا 2019 سے چل رہے عراق میں ایران کے خلاف احتجاج کی شیعہ عالمِ دین و رہنما مولانا حسن علی راجانی نے عراق کی خودمختاری، عراقی عوام کے حقِ خودارادیت اور خطے میں پائیدار امن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کو کسی بھی بیرونی طاقت کے سیاسی یا عسکری مفادات کی خاطر جنگوں میں دھکیلا نہیں جانا چاہیے۔مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ عراق خود ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے، لیکن شیعہ ہونا اور ایران کی حکومت کی ہر پالیسی کی حمایت کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ اگر عراقی عوام اپنے قومی مفادات، سلامتی اور مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو ان کے اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مذہب اور مسلک کی بنیاد پر کسی ملک سے سیاسی وفاداری کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ عراق نے کئی دہائیوں کے تنازعات، جنگوں، دہشت گردی اور بدامنی کے باعث شدید انسانی اور معاشی مشکلات برداشت کی ہیں۔ عراقی عوام کو اب امن، تعلیم، روزگار، ترقی اور باعزت زندگی کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسی علاقائی کشیدگی کی جو ان کے ملک کو ایک بار پھر تصادم کا میدان بنا دے۔مولانا راجانی نے ایران کی علاقائی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران سمیت کسی بھی ملک کو عراق کی خودمختاری، داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کسی بیرونی حکومت یا اس سے وابستہ مسلح گروہوں پر عراق میں مداخلت، تشدد یا عدم استحکام پیدا کرنے کے الزامات ہیں تو ان کی آزادانہ، شفاف اور شواہد پر مبنی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا احتساب قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ عراق کو ایران یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ محاذ آرائی میں شامل ہونے کے بجائے اپنے قومی مفادات، سرحدوں کے تحفظ اور عوام کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی طرح کسی دوسرے ملک کو بھی عراق سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ اس کی خاطر دنیا کے ساتھ تصادم مول لے۔مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ نجف و کربلا کی سرزمین اہلِ بیتؑ کی محبت، قربانی، حق گوئی اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کی یاد دلاتی ہے۔ امام حسینؑ کے پیغام کو محض سیاسی نعروں تک محدود کرنے کے بجائے انصاف، آزادی، انسانی جان کے احترام اور ظلم کے خلاف اصولی مؤقف کی صورت میں اپنانا چاہیے۔انہوں نے عراقی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے مستقبل کا فیصلہ عراقی عوام کو خود کرنا چاہیے۔ نہ ایران، نہ امریکہ اور نہ کوئی دوسری علاقائی یا عالمی طاقت عراق کی سرزمین کو اپنے مفادات کی جنگ کا میدان بنائے۔مولانا حسن علی راجانی نے اپنےاختتامی بیان میں واضح کیا کہ عراق کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی سب سے اہم ہے۔ شیعہ ہونا ایران کی ہر پالیسی کی تائید کرنے کا نام نہیں۔ عراقی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے امن، ترقی اور آزادانہ فیصلوں کا راستہ منتخب کریں۔ اور دنیا بھر کا شیعہ عراق کے عوام کے ساتھ امن، خودمختاری اور ایک محفوظ مستقبل کے لیے کھڑا ہے۔ انہونے یہ بھی کہا کہ دنیا بھر کے شیعوں کو ایران کی ہر پراکسی کی حمایت پر مجبور کرنا ناقابلِ قبول ہے —اور ایران کی عراق سمیت دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایران کی حکومت کی ہر پالیسی اور اس سے وابستہ ہر مسلح گروہ کی حمایت کریں، مذہبی آزادی، انسانی خودمختاری اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔مولانا حسن علی راجانی کے مطابق، شیعہ ہونا ایران کی حکومت، اس کی خارجہ پالیسی یا اس سے منسوب ہر پراکسی گروہ کی حمایت کرنے کی شرط نہیں ہے۔ دنیا بھر کے شیعہ مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ آزادانہ سیاسی رائے رکھنے اور اپنے ملک کے قومی مفادات کو مقدم رکھنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہب یا مسلک کو سیاسی وفاداری مسلط کرنے، مسلح تنازعات کی حمایت حاصل کرنے یا اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی حکومت یا اس سے وابستہ مسلح تنظیمیں دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں، شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں یا علاقائی عدم استحکام کا سبب بنتی ہیں تو ان اقدامات کی شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق جواب دہی ضروری ہے۔مولانا راجانی نے ایران کی ایسی مبینہ پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عراق، لبنان، یمن اور دیگر ممالک کے شیعہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ کسی بھی ملک کے عوام کو بیرونی سیاسی یا عسکری مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی عقیدت کو کسی ریاست کی غیر مشروط سیاسی حمایت کے برابر قرار دینا ایک خطرناک سوچ ہے۔ اہلِ بیتؑ سے محبت کا تقاضا انصاف، انسانی جان کے احترام، حق گوئی اور مظلوموں کی حمایت ہے، نہ کہ کسی بھی طاقت کی ہر کارروائی کی اندھی تائید۔
 
Contact Email [email protected]
Issued By Maulana Hasan Ali Rajani
Phone +91-8347799275
Business Address Maulana Hasan Ali Rajani Noida Sector 116 UP India
Maulana Hasan Ali Rajani Mahuva Bhavnagar Gujrat Indua
Country India
Categories Media , News , Politics
Tags maulana hasan ali rajani , maulana rajani , hasan ali rajani
Last Updated October 27, 2026