شیعہ مولانا راجانی نے فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے آغا روح اللہ مہدی کے موقف کی مذمت کی


Posted October 31, 2026 by rajanihasanali

آرٹیکل 370 کوئی مذاق یا سیاسی کھیل نہیں، سیاست جذبات اور انا سے نہیں بلکہ تجربے، حکمت عملی اور سیاسی ذہانت سے چلتی ہے - شیعہ مولانا حسن علی راجانی

 
نئی دہلی، یکم نومبر: جموں و کشمیر کی سیاست میں آغا سید روح اللہ مہدی اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کے درمیان جاری اختلافات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف شیعہ عالم دین اور رہنما مولانا حسن علی راجانی نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کوئی چھوٹا سیاسی مسئلہ یا مذاق نہیں ہے جسے صرف سیاسی بیانات، ذاتی اختلافات یا جذباتی فیصلوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔ مولانا رجانی نے کہا کہ سیاست جذبات، غصہ اور ذاتی انا سے نہیں بلکہ صبر، تجربہ، سیاسی حکمت عملی اور دور اندیشی سے چلتی ہے۔ خود سیاسی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات کے باوجود عوامی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور مشاورت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ جیسے سینئر سیاستدان کئی دہائیوں کا سیاسی تجربہ رکھتے ہیں۔ انہیں جموں و کشمیر کی سیاست، اس کی پیچیدگیوں اور سیاسی جدوجہد کے تقاضوں کا طویل تجربہ ہے۔ سیاسی معاملات کو آگے لے جانے کے لیے تجربہ کار قیادت کی حکمت عملی اور مشاورت کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ مولانا رجانی نے مزید کہا کہ کوئی بھی سیاسی رہنما اپنے ذاتی موقف کو پوری جماعت اور عوام کی اجتماعی سیاسی حکمت عملی سے بالا تر نہ سمجھے۔ اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن اختلافات کو ذاتی انا اور سیاسی جدوجہد میں بدلنا عوامی مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کا مسئلہ اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی، قانونی اور آئینی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ جذباتی نعروں کی بجائے جمہوری، آئینی اور سیاسی عمل کے تحت کیا جائے۔ آخر میں مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ایسی سیاسی قیادت اور حکمت عملی کی ضرورت ہے جو جذباتی سیاست کے بجائے سنجیدگی، اتحاد، تجربہ اور مفاد عامہ کو ترجیح دے۔آخر میں مولانا راجانی نے کہا کسی کو پانچ چھ سال ایران کی روٹی توڑ کر ہندوستان میں آکر امام خامنہ ای کی طرح بننے کا خواب نہیں دیکھنا چاہئے، کیونکہ کشمیر اور ایران کی سیاست اور حالات بہت مختلف ہیں، اس لیے کشمیر میں ایرانی پالیسی بالکل نہیں چلے گی۔اس لئے میں فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے آغا سید روح اللہ مہدی کے موقف کی بھر پور مذمت کرتا ہوں
 
Contact Email [email protected]
Issued By Maulana Hasan Ali Rajani
Phone +91-8347799275
Business Address Maulana Hasan Ali Rajani Noida Sector 116 UP India
Maulana Hasan Ali Rajani Mahuva Bhavnaga Gujrat India
Country India
Categories Media , News , Politics
Tags maulana hasan ali rajani , maulana rajani , hasan ali rajani
Last Updated October 31, 2026