ایران پوری دنیا علاقائی مداخلت بند کریں، شیعہ حضرات کو پراکسی سیاست سے آزاد رکھا جائے: مولانا حسن علی راجانی


Posted November 6, 2026 by rajanihasanali

ایران عراق، شام، لبنان اور یمن سمیت دنیا بھر میں اپنی مبینہ سیاسی و عسکری مداخلت بند کرے؛ شیعہ عوام کو علاقائی طاقتوں کی سیاست کا ذریعہ نہ بنایا جائے — مولانا حسن علی راجانی

 
نئی دہلی، 6 نومبر : (پریس ریلیز ) مولانا حسن علی راجانی نے ایران کی علاقائی پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو عراق، شام، لبنان، یمن اور دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی پالیسی ترک کرنی چاہیے۔ ہر ملک کو اپنی سیاسی، مذہبی اور قومی ترجیحات کا فیصلہ خود کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ کسی دوسرے ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ مذہب، مسلک یا نظریاتی وابستگی کے نام پر دوسرے ممالک کے داخلی معاملات پر اثرانداز ہو۔مولانا راجانی نے کہا کہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں ایران کے علاقائی اثر و رسوخ، اس سے منسلک مسلح تنظیموں اور سیاسی نیٹ ورکس کے کردار پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں کئی ممالک میں سیاسی عدم استحکام، مسلح تصادم اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کا احتساب ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ عراق ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔ بغداد کے سیاسی فیصلے بغداد میں ہونے چاہئیں، تہران یا کسی دوسرے بیرونی دارالحکومت میں نہیں۔ اسی طرح شام، لبنان اور یمن کے عوام کو بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ بیرونی دباؤ اور مسلح گروہوں کے اثر سے آزاد ہوکر کرنے کا حق ملنا چاہیے۔مولانا راجانی نے واضح کیا کہ شیعہ مذہب اور شیعہ عوام کو کسی ایک ملک کی حکومت یا سیاسی نظام کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔ دنیا بھر کے شیعہ مسلمان مختلف ممالک کے شہری ہیں اور ان کی پہلی ذمہ داری اپنے وطن، اپنے معاشرے اور اپنے عوام کے ساتھ ہے۔ کسی بھی حکومت کی خارجہ پالیسی کی حمایت کو پورے شیعہ مسلک کی نمائندگی قرار نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے عام عوام اور ایران کی حکومتی پالیسیوں میں واضح فرق رکھا جانا چاہیے۔ ایرانی عوام بھی امن، روزگار، تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل کے مستحق ہیں۔ ہماری تنقید کسی قوم، زبان یا مذہبی برادری کے خلاف نہیں بلکہ ان پالیسیوں کے خلاف ہے جو دوسرے ممالک کی خودمختاری اور شہریوں کے امن کو متاثر کرتی ہیں۔مولانا راجانی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ عراق، شام، لبنان اور یمن سمیت تمام متاثرہ خطوں میں غیر ملکی مداخلت، مسلح سرگرمیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ شیعہ شناخت کا اصل پیغام عدل، انسانیت، امن، اتحاد اور مظلوموں کی حمایت ہے، نہ کہ کسی حکومت کی سیاسی یا عسکری پالیسیوں کی غیر مشروط حمایت۔ مذہب کو جنگ، پراکسی سیاست اور علاقائی بالادستی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔مولانا حسن علی راجانی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کو مزید جنگوں اور پراکسی تنازعات کی نہیں بلکہ امن، خودمختاری، تعمیرِ نو، تعلیم اور انسانی ترقی کی ضرورت ہے۔
 
Contact Email [email protected]
Issued By Maulana Hasan Ali Rajani
Phone +91-8347799275
Business Address Maulana Hasan Ali Rajani Noida Sector 116 UP India
Maulana Hasan Ali Rajani Mahuva Bhavnagar gujarat India
Country India
Categories Media , News , Politics
Tags maulana hasan ali rajani , maulana rajani , hasan ali rajani
Last Updated November 6, 2026